المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الخلافة فِي قريش باب: خلافت کے قریش میں ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّكُمُ الْوُلَاةُ بَعْدِي لِهَذَا الْأَمْرِ ... وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، وَاحْفَظُونِي فِي الْأَنْصَارِ وَأَبْنَائِهِمْ وَأَبْنَاءِ أَبْنَائِهِمْ .
كَثِيرٌ ضَعِيفٌ .سیدنا کثیر بن عبد اللہ کے دادا (سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے مَعْشَرَ قُرَيْشٍ (قریش کے گروہ)! میرے بعد اس اَمرِ (خِلافت و حُکومت) کے تُم ہی مُتولی و وارث ہو... ﴿وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو“ اور ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا﴾ [سورة آل عمران: 103] ”اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو“ (پوری آیت کے آخر تک)، اور اَنْصَارِ، ان کے بیٹوں اور ان کے پوتوں کے معاملے میں میرا لحاظ رکھنا (یعنی ان کے ساتھ بھلائی کر کے میرے حق کی پاسداری کرنا)۔“
کثِیر (نامی راوی) ضعیف ہے۔