المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الخلافة فِي قريش باب: خلافت کے قریش میں ہونے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَغَيْرِهِ ، وَصَلَ الْحَدِيثَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : وَكَتَبَ مُسَيْلِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ مُسَيْلِمَةَ بْنِ حَبِيبٍ لِمُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ لِقُرَيْشٍ نِصْفَ الْأَرْضِ ، وَلَنَا نِصْفَ الْأَرْضِ وَلَكِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ ، وَشَهِدَ الرَّجُلَانِ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَقَالَا : إِنَّ مُسَيْلِمَةَ لَا يُنْكِرُ ذَلِكَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ أُشْرِكَ مَعَكَ فِي الْأَمْرِ ، وَأُحْدِثَتْ إِلَيْهِ نُبُوَّةٌ مَعَ نُبُوَّتِكَ . ..الْحَدِيثَ .
فِيهِ إِرْسَالٌ .عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مُسَیْلَمَہ (کذاب) نے رسول اللہ ﷺ کی جانب ایک مکتوب ارسال کیا جس کا مضمون یہ تھا: ”مُسَیْلَمَہ بِن حَبِیْب کی جانب سے مُحَمَّد رَسُوْلُ اللہ ﷺ کے نام، آپ پر سلامتی ہو۔ اَمَّا بَعْد! بیشک آدھی زمین قریش کی ہے اور آدھی زمین ہماری ہے، لیکن قریش ایسی قوم ہے جو حد سے تجاوز اور زیادتی کرتی ہے“۔ ان دو قاصدوں نے اس بات کی گواہی دی کہ مُحَمَّد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ: ”مُسَیْلَمَہ اس حقیقت کا انکار نہیں کرتا، سوائے اس کے کہ اسے بھی آپ کے ساتھ اَمْرِ نُبُوَّت (نبوت کے معاملے) میں شریک کر لیا گیا ہے اور آپ کی نُبُوَّت کے ساتھ اسے بھی نُبُوَّت عطا کی گئی ہے“۔
اس روایت کی سند میں اِرْسَال (انقطاع) پایا جاتا ہے۔