المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الإمارة لِمَنْ لَمْ يقدر عَلَيْهَا باب: امارت کی اہلیت نہ رکھنے والے کے لیے امارت کی کراہت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُسَلِّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِيَّاكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُ عَلَى عُنُقِكَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَإِنْ فَعَلْتُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : قَدْ عَلِمْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَنِّي أُسْأَلُ فَأُعْطِي فَأَعْفِنِي ، فَأَعْفَاهُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا سَعْد بِن عُبَادَہ رضی اللہ عنہ کو (زکاۃ و صدقات کی وصولی کا) «عَامِل» مقرر فرمایا، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں سلام عرض کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”اے سَعْد! (خیانت سے) بچ کر رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ تم نے اپنی گردن پر ایسا اونٹ اٹھا رکھا ہو جو بلبلا رہا ہو۔“ انھوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں نے یہ کام کیا تو کیا ایسا (انجام) ہونا یقینی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انھوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ کو بخوبی علم ہے کہ مجھ سے جب بھی کچھ مانگا جاتا ہے تو میں (فیاضی کے باعث) عطا کر دیتا ہوں، لہٰذا آپ مجھے (اس عہدے سے) معاف فرما دیں“، چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں معاف (سبکدوش) فرما دیا۔
امام اَبُو یَعْلٰی المَوْصِلِی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں عبد اللہ بن عبد الصمد نے حدیث بیان کی، ان سے محمد بن حمید نے، انہوں نے اسماعیل سے، انہوں نے عُبَیْد اللہ بن عمر بن حفص سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے۔