المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الإمارة لِمَنْ لَمْ يقدر عَلَيْهَا باب: امارت کی اہلیت نہ رکھنے والے کے لیے امارت کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2097
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ - هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْثًا ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ : كَيْفَ وَجَدْتَ بَعْثَكَ ؟ قَالَ : مَا زِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ مَنْ مَعِي خَوَلٌ لِي ، فَايْمُ اللهِ لَا أَعْمَلُ عَلَى رَجُلَيْنِ مَا دُمْتُ حَيًّا .ترجمہ
عُمَیْر بِنْ اِسْحَاق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سَیِّدُنَا مِقْدَاد بِنْ اَلْاَسْوَد رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرمایا، جب وہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے لشکر اور امارت کو کیسا پایا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں مسلسل اسی کیفیت میں رہا یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ جو لوگ میرے ساتھ ہیں وہ میرے «خَوَلٌ» ”خادم و غلام“ ہیں، پس اللہ کی قسم! میں جب تک زندہ ہوں، کبھی دو آدمیوں کی امارت (سربراہی) بھی قبول نہیں کروں گا۔“
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔