❮
❯
حدیث نمبر: 2092
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ - هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ - عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ الْجُمَحِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَتَنَاجَيَانِ بَيْنَهُمَا حَدِيثًا . فَقُلْتُ لَهُمَا : أَمَا حَفِظْتُمَا فِي وَصِيَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَجَعَلَا يَتَذَاكَرَانِهِ ، فَقَالَا : إِنَّمَا بُدُوُّ هَذِهِ الْأُمَّةِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ ، ثُمَّ كَائِنٌ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ كَائِنٌ مُلْكًا عَضُوضًا ، ثُمَّ كَائِنٌ عُتُوًّا وَجَبْرِيَّةً وَفَسَادًا فِي الْأُمَّةِ ، يَسْتَحِلُّونَ الْخُمُورَ وَالْفُرُوجَ ، وَفَسَادًا فِي الْأُمَّةِ يُنْصَرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُرْزَقُونَ حَتَّى يَلْقَوُا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
2092 \ 2 - رَوَاهُ الطَّيَالِسِيُّ : عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، نَحْوَهُ .
2092 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ - هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ -
2092 \ 4 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، بِهِ .
ترجمہ

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما آپس میں سرگوشی میں کوئی بات کر رہے تھے، میں نے ان سے دریافت کیا: ”کیا آپ دونوں کو رسول اللہ ﷺ کی وہ وصیت یاد ہے؟“ تو وہ دونوں اس کا باہم تذکرہ کرنے لگے اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اس امت کی ابتدا «نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ» ”نبوت اور رحمت“ سے ہے، پھر اس کے بعد «خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ» ”خلافت اور رحمت“ ہوگی، پھر «مُلْكًا عَضُوضًا» ”کاٹ کھانے والی ملوکیت“ ہوگی، پھر «عُتُوًّا وَجَبْرِيَّةً وَفَسَادًا فِي الْأُمَّةِ» ”سرکشی، جبر اور امت میں فساد“ کا دور آئے گا، لوگ شراب نوشی اور بدکاری کو حلال سمجھ لیں گے، امت میں ایسے بگاڑ کے باوجود انہیں نصرت دی جائے گی اور رزق عطا کیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل سے جا ملیں۔“
یہ حدیث حسن ہے۔
اسے امام طیالسی نے جریر بن حازم کے واسطے سے لیث سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔
اور امام ابویعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ابوضیثمہ نے جریر بن عبدالحمید سے حدیث بیان کی۔
نیز امام ابویعلیٰ نے کہا کہ ہمیں محمد بن منہال نے عبدالواحد بن زیاد سے اور انہوں نے لیث کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2092
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 367، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8960، 8961، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4165/1»