المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2090–2094) باب: (احادیث 2090 تا 2094)
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ .
2093 \ 2 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : ثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : هَلْ حَدَّثَكُمْ نَبِيُّكُمْ : كَمْ يَكُونُ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَمَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَبْلَكَ ، وَإِنَّكَ لَمِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا . قَالَ : يَكُونُونَ عِدَّةَ نُقَبَاءِ مُوسَى اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .
2093 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُجَالِدٍ بِهِ .
2093 \ 1 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ قَيْسِ بْنِ عَبْدٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ : لَمِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا .مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: ”کیا آپ کے نبی ﷺ نے آپ لوگوں کو بتایا تھا کہ ان کے بعد کتنے خُلَفَاء ہوں گے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، اور تم سے پہلے مجھ سے یہ سوال کسی نے نہیں پوچھا، حالانکہ تم عمر میں ان تمام حاضرین سے چھوٹے ہو؛ وہ موسیٰ علیہ السلام کے نُقَبَاء کی تعداد کے مطابق بارہ نقیب ہوں گے۔“
یہ اِسْنَادٌ حَسَنٌ ہے۔
امام ابویعلیٰ نے بھی اپنی سند سے یہی روایت نقل کی ہے۔
اسحاق نے جریر کے طریق سے امام شعبی کے چچا قیس بن عبد کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ ایک دیہاتی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر انہوں نے اسی کی مانند حدیث ذکر کی، البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ: ”تم ان لوگوں میں سب سے نو عمر ہو۔“