المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى عَلَى مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، مَا قِوَامُ هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : " الْإِخْلَاصُ ، وَهِيَ الْفِطْرَةُ ، وَالصَّلَاةُ وَهِيَ الْمِلَّةُ ، وَالطَّاعَةُ " .ابوقلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جب کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت میں موجود تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”اے معاذ! اس معاملے (یعنی دینِ اسلام) کا مدار، ستون اور اس کا استحکام کس چیز پر ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اخلاص و للہیت پر، اور یہی وہ فطرتِ سلیمہ ہے (جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا)؛ اور نماز پر، اور یہی ملتِ اسلامیہ کا بنیادی شعار ہے؛ اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری پر۔“
اس اثر کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں تاہم ابوقلابہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہ ہونے کی بنا پر یہ سنداً منقطع (مرسل) ہے، مگر اس کے شواہد دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔