المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ الْحَائِضِ وَكَفَّارَةِ ذَلِكَ وَمَا يَحِلُّ مِنْهَا باب: حائضہ سے جماع کی ممانعت، اس کے کفارے اور جائز مباشرت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، " أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ تَكْرَهُ الرِّجَالَ ، فَكَانَ كُلَّمَا أَرَادَهَا اعْتَلَّتْ بِالْحَيْضَةِ ، فَظَنَّ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا صَادِقَةً ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِخُمُسِ دِينَارٍ " .
حَدِيثٌ حَسَنٌ .
208 \ 2 - وَأَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
208 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، فَذَكَرَهُ ، لَكِنَّ لَفْظَهُ : أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى جَارِيَةً لَهُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَوَقَعَ بِهَا فَوَجَدَهَا حَائِضًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " يَغْفِرُ اللهُ يَا أَبَا حَفْصٍ ، تَصَدَّقْ بِنِصْفِ دِينَارٍ " .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ایک اہلیہ مردوں سے بیزاری محسوس کرتی تھیں، چنانچہ جب بھی وہ ان سے قربت کا ارادہ فرماتے تو وہ حیض کا عذر پیش کر دیتیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گمان کیا کہ شاید وہ جھوٹ بول رہی ہیں، چنانچہ انہوں نے ان سے ہم بستری کر لی تو انہیں اپنے قول میں سچا پایا، پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں ”دینار کا پانچواں حصہ“ صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔
دوسری سند میں بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ایک اہلیہ تھیں، پھر راوی نے سابقہ روایت کی طرح ہی تذکرہ کیا۔
جبکہ امام حارث کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی ایک لونڈی کے پاس تشریف لائے، اس نے عرض کیا کہ میں حیض سے ہوں، لیکن انہوں نے اس سے جماع کر لیا اور اسے واقعی حالتِ حیض میں پایا، جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يَغْفِرُ اللهُ يَا أَبَا حَفْصٍ» ”اے ابوحفص! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ آدھا دینار صدقہ کریں۔“