المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، ثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، أَنَا مَعْبَدٌ ، أَخْبَرَنَا فُلَانٌ ، وَهُوَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ حَدِيثٍ قَبْلَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَمَا الصَّلَاةُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرٌ مَوْضُوعٌ ، فَمَنْ شَاءَ أَقَلَّ مِنْهُ ، وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ " .سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی بابرکت مجلس میں حاضر ہوئے، پھر انہوں نے سابقہ حدیث کی طرح واقعہ ذکر کرتے ہوئے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز کی شرعی حیثیت و حقیقت کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نماز ایک بہترین عمل ہے جو (اللہ کی طرف سے بندوں کے لیے) مقرر کیا گیا ہے، اب جو چاہے (نفل نماز کے ذریعے) اس میں کمی کرے اور جو چاہے کثرت کرے۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے روایت کیا ہے، یہ روایت نماز کی فضیلت اور اس کی کثرت پر ابھارتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہترین تحفہ اور مقرر کردہ عبادت ہے، جس میں اضافے کا اختیار بندے کے اپنے ذوقِ عبادت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔