المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تعظيم شأن الغلول باب: مالِ غنیمت میں خیانت (غلول) کی سنگینی اور اس کے معاملے کی ہولناکی کو بیان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2079
قَالَ أَبُو يَعْلَى : ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ شَيْءٌ مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ ، خَيْطٌ وَلَا مِخْيَطٌ لِآخِذٍ ، وَلَا مُعْطِي إِلَّا بِحَقٍّ .
2079 \ 2 - حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ لَيْثًا ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا يَحِلُّ لِي مِنْ هَذِهِ الْغَنَائِمِ ؟ قَالَ : لَا يَحِلُّ مِنْهُ خَيْطٌ وَلَا مِخْيَطٌ لِآخِذٍ وَلَا مُعْطِي .ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کے اموالِ غنیمت میں سے کسی بھی شخص کے لیے تھوڑی یا زیادہ کوئی بھی چیز حلال نہیں ہے، یہاں تک کہ نہ دھاگہ اور نہ ہی سوئی، نہ لینے والے کے لیے اور نہ ہی دینے والے کے لیے، سوائے اس کے جو حق کے ساتھ (یعنی شرعی تقسیم کے مطابق) ہو۔“ اسی حدیث کی دوسری سند میں مروی ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میرے لیے ان غنائم میں سے کیا کچھ حلال ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لینے والے اور دینے والے کے لیے نہ تو دھاگہ حلال ہے اور نہ ہی سوئی۔“