المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تعظيم شأن الغلول باب: مالِ غنیمت میں خیانت (غلول) کی سنگینی اور اس کے معاملے کی ہولناکی کو بیان کرنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصَبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنْ لَمْ تَغُلَّ أُمَّتِي لَمْ يَقْرَبْهُمْ عَدُوٌّ أَبَدًا ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لِحَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ : هَلْ ثَبَتَ لَكُمُ الْعَدُوُّ حَلْبَةَ شَاةٍ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَثَلَاثِ شِيَاهٍ عُزُزٍ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : غَلَلْتُمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ إِسْحَاقُ : الْعُزُزُ : ضِيقُ الْإِحْلِيلِ .سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر میری امت (مالِ غنیمت میں) خیانت نہ کرے تو دشمن کبھی ان کے قریب نہیں آ سکے گا“، پھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے حبیب بن مسلمہ سے پوچھا: ”کیا دشمن تمہارے مقابلے میں ایک بکری دوہنے کے وقفے کے برابر بھی جم سکا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، بلکہ ایسی تین بکریوں کے دوہنے کی مدت تک جن کے تھن تنگ ہوں“، تو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے (حسرت سے) فرمایا: ”ربِ کعبہ کی قسم! تم لوگوں نے خیانت کا ارتکاب کر لیا ہے“، امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ «الْعُزُزُ» سے مراد تھن کی نالی کا تنگ ہونا ہے (جس کی وجہ سے دودھ نکالنے میں مشقت اور زیادہ وقت صرف ہوتا ہے)۔