❮
❯
حدیث نمبر: 2080
قَالَ أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَشْعَرِيُّ ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، وَتَغْلِبُونَنِي ، تَقَاحَمُونَ فِيهَا تَقَاحُمَ الْفَرَاشِ وَالْجَنَادِبِ ، فَأُوشِكُ أَنْ أُرْسِلَ بِحُجَزِكُمْ وَأَنَاقِرِكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَتَرِدُونَ عَلَيَّ مَعًا وَأَشْتَاتًا ، فَأَعْرِفُكُمْ بِسِيمَاكُمْ وَأَسْمَائِكُمْ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الْغَرِيبَةَ مِنَ الْإِبِلِ فِي إِبِلِهِ ، وَيُذْهَبُ بِكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، وَأُنَاشِدُ فِيكُمْ رَبَّ الْعَالَمِينَ ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، قَوْمِي ، أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي . فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ; إِنَّهُمْ كَانُوا يَمْشُونَ بَعْدَكَ الْقَهْقَرِيَّ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، فَلَا أَعْرِفَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدَكُمْ يَحْمِلُ شَاةً لَهُ ثُغَاءٌ ، فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ ، فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ فَرَسًا لَهَا حَمْحَمَةٌ فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغَتْكَ ، وَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ سِقَاءً مَنْ أَدَمٍ فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ سے بچا رہا ہوں، (اور پکارتا ہوں کہ) آگ سے دور ہٹ جاؤ، مگر تم مجھ پر غالب آ جاتے ہو اور اس میں اس طرح گرے جا رہے ہو جیسے پروانے اور ٹڈیاں گرتی ہیں۔ پس قریب ہے کہ میں تمہاری کمریں چھوڑ دوں اور میں حوضِ کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا، تم میرے پاس اکٹھے بھی آؤ گے اور مختلف ٹولیوں کی صورت میں بھی، میں تمہیں تمہاری علامات اور تمہارے ناموں سے ایسے پہچان لوں گا جیسے کوئی آدمی اپنے اونٹوں کے ریوڑ میں کسی اجنبی اونٹ کو پہچان لیتا ہے۔ پھر تمہیں بائیں جانب (جہنم کی طرف) لے جایا جائے گا تو میں رب العالمین کے حضور تمہارے بارے میں عرض گزاری کروں گا: «أَيْ رَبِّ ، قَوْمِي ، أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي» ”اے میرے رب! میری قوم، اے میرے رب! میری امت۔“ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد (ﷺ)! آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں نکالی تھیں؛ یہ لوگ تو آپ کے بعد الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے تھے۔ پس میں روزِ قیامت تم میں سے کسی کو اس حال میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ اپنی گردن پر منمناتی ہوئی بکری اٹھائے ہوئے ہو اور وہ پکارے: اے محمد! اے محمد! (ﷺ) تو میں کہوں گا کہ میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔ اور میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ ہنہناتا ہوا گھوڑا اٹھائے ہوئے ہو اور وہ پکارے: اے محمد! اے محمد! (ﷺ) تو میں کہوں گا کہ میں تمہارے لیے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں، میں نے تمہیں حق پہنچا دیا تھا۔ اور میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ چمڑے کا مشکیزہ اٹھائے ہوئے ہو اور پکارے: اے محمد! اے محمد! (ﷺ) تو میں کہوں گا کہ میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، یقیناً میں نے تمہیں (حق کی) تبلیغ کر دی تھی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2080
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد أبي يعلى حسن لأجل يعقوب القُمّي: صدوق، وحفص بن حميد: لا بأس به. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1338، وأخرجه سنن النسائي برقم: 2448، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1658، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1786، وأخرجه مسند أحمد برقم: 7509، 7663، 7698، 8447، 8754، 9971، 10474، وأخرجه فتح الباري برقم: 1337، 1338، 4382، 6197، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 6863، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1475، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2252، 2254، 2291، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2090، 2892، 6265، 6411، 6797، 8940، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3261، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 2462، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 8942، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4485»