المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الإحسان إِلَى يتامى المجاهدين باب: مجاہدین کے یتیم بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور نیکی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2077
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، ثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أُمِّ الْحَكَمِ ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي أُمُّ الْحَكَمِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ بَعْضِ غَزَوَاتِهِ وَقَدْ أَصَابَ رَقِيقًا ، فَذَهَبَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا حَتَّى دَخَلَتَا عَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَذَهَبُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ أَنْ يُحَدِّثَهُنَّ وَيَشْكِينَ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَقَكُنَّ يَتَامَى أَهْلِ بَدْرٍ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ ، لَكِنْ قَالَ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّ الْحَكَمِ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ .ترجمہ
سیدہ ام الحکم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی غزوے سے واپس تشریف لائے اور آپ ﷺ کو کچھ غلام حاصل ہوئے تھے، تو وہ اور ان کی بہن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں، پھر وہ سب رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے اپنی ضرورت و حاجت کی شکایت کرتے ہوئے (خادم کا) سوال کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے بدر کے یتیم ان کے حق دار بن چکے ہیں۔“ میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کو امام ابو داؤد نے بھی روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے فضل بن حسن کے واسطے سے اسے سیدہ ام الحکم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔