❮
❯
حدیث نمبر: 2076
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَصَابَ الْمُهَاجِرُونَ قُبَّةً مِنْ أَدَمٍ بَعْدَ حُنَيْنٍ أَوْ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، قَدْ طِبْنَا بِهَا لَكَ نَفْسًا ، فَخُذْهَا تَسْتَظِلُّ بِهَا ، وَيَسْتَظِلُّ بَعْضُنَا مَعَكَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُحِبُّونَ أَنْ يَكُونَ نَبِيُّكُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ نَارٍ . ؟
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غزوہِ حنین کے دن یا اس کے بعد مہاجرین کو چمڑے کا ایک خیمہ ملا، تو مہاجرین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! ہم نے خوش دلی کے ساتھ یہ آپ کے لیے خاص کر دیا ہے، لہٰذا آپ اسے قبول فرما لیں تاکہ آپ اس کے سائے میں تشریف رکھیں اور آپ کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ بھی اس کا سایہ حاصل کر سکیں“، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارا نبی آگ کے خیمے میں رہے؟“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2076
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب إسناده لا بأس به، رجاله ثقات، ولم يتبين لي من هو حنش وعدم تمييزه لا يضرّ، لأنّه بالرجوع إلى تهذيب الكمال (7/ 428) والتقريب (ص 183) تبيّن لي أنّ جميع من يحمل هذا الاسم عدول، بعضهم ثقات، وبعضهم صدوق له أوهام، وآخر لا بأس به. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»