المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ استئثار الْإِمَامِ بشيء مِنْ الغنيمة قَبْلَ القسمة باب: تقسیم سے پہلے امام کے لیے مالِ غنیمت میں سے کسی بھی چیز کو اپنے لیے مخصوص کر لینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2076
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَصَابَ الْمُهَاجِرُونَ قُبَّةً مِنْ أَدَمٍ بَعْدَ حُنَيْنٍ أَوْ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، قَدْ طِبْنَا بِهَا لَكَ نَفْسًا ، فَخُذْهَا تَسْتَظِلُّ بِهَا ، وَيَسْتَظِلُّ بَعْضُنَا مَعَكَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُحِبُّونَ أَنْ يَكُونَ نَبِيُّكُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ نَارٍ . ؟ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غزوہِ حنین کے دن یا اس کے بعد مہاجرین کو چمڑے کا ایک خیمہ ملا، تو مہاجرین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! ہم نے خوش دلی کے ساتھ یہ آپ کے لیے خاص کر دیا ہے، لہٰذا آپ اسے قبول فرما لیں تاکہ آپ اس کے سائے میں تشریف رکھیں اور آپ کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ بھی اس کا سایہ حاصل کر سکیں“، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارا نبی آگ کے خیمے میں رہے؟“۔