المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إيثار الْإِمَامِ بعض الرعية برضا الباقي باب: باقی رعایا کی رضامندی سے بعض افراد کو ترجیح دینے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ دُرْجًا أَتَى بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَلَمْ يَعْرِفُوا قِيمَتَهُ ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُونَ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِحُبِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَأُتِيَ بِهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَفَتَحَتْهُ فَقِيلَ : هَذَا أَرْسَلَ بِهِ إِلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : مَاذَا فَتَحَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّهُمَّ لَا تُبْقِنِي لِعَطِيَّةِ قَابِلٍ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک چھوٹا صندوقچہ لایا گیا، ان کے پاس موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے دیکھا تو وہ اس کی قدر و قیمت نہ پہچان سکے، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم لوگ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی ان سے کمالِ محبت کی خاطر میں یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیج دوں؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں“، چنانچہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لایا گیا، جب انہوں نے اسے کھولا تو ان سے کہا گیا: ”یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے“، اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے رخصت ہو جانے کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ پر (دنیا کے) کیسے کیسے دروازے کھول دیے ہیں“، پھر انہوں نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ لَا تُبْقِنِي لِعَطِيَّةِ قَابِلٍ» ”اے اللہ! مجھے آئندہ برس کے عطیے تک زندہ نہ رکھنا۔“