المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قسم الفيء لِمَنْ هاجر ولمن وقع ذَلِكَ ببلده باب: مالِ فے کو مہاجرین اور اس علاقے کے لوگوں میں تقسیم کرنے کا بیان جہاں وہ حاصل ہوا ہو۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ هَذَا الْفَيْءَ أَفَاءَهُ اللهُ عَلَيْكُمُ ، الرَّفِيعُ فِيهِ وَالْوَضِيعُ بِمَنْزِلَةٍ ، لَيْسَ بِأَحَدٍ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ : لَخْمٍ وَجُذَامَ ، فَإِنِّي غَيْرُ قَاسِمٍ لَهُمْ شَيْئًا ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ لَخْمٍ فَقَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، أَنْشُدُكَ اللهَ فِي الْعَدْلِ . فَقَالَ : إِنَّمَا يُرِيدُ ابْنُ الْخَطَّابِ الْعَدْلَ وَالسَّوِيَّةَ ، وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ لَوْ كَانْتِ الْهِجْرَةُ بِصَنْعَاءَ مَا خَرَجَ إِلَيْهَا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ إِلَّا الْقَلِيلُ ، فَلَا أَجْعَلُ مَنْ تَكَلَّفَ السَّفَرَ وَابْتَاعَ الظَّهْرَ قَوْمٌ ، إِنَّمَا قَاتَلُوا فِي دِيَارِهِمْ . فَقَامَ أَبُو حُدَيْرِجٍ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ كَانَ اللهُ تَعَالَى سَاقَ إِلَيْنَا الْهِجْرَةَ فِي دِيَارِنَا فَنَصَرْنَاهَا وَصَدَّقْنَاهَا ، فَذَاكَ الَّذِي يُذْهِبُ حَقَّنَا فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَاللهِ لَأَقْسِمَنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ ، فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ نِصْفَ دِينَارٍ ، وَإِذَا كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ أَعْطَاهُ دِينَارًا ، وَإِذَا كَانَ جَدَّهُ أَعْطَاهُ نِصْفَ دِينَارٍ .سیدنا سفیان بن وہب الخولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مقامِ جابیہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں حاضر تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، پھر فرمایا: ”اما بعد! بے شک یہ مالِ فئے وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اس میں بلند مرتبہ اور عام مقام رکھنے والا (سب) برابر ہیں، کسی کو دوسرے پر اس میں کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، سوائے لخم اور جذام کے ان دو قبائل کے، کیونکہ میں ان کے درمیان کچھ بھی تقسیم نہیں کروں گا۔“ تب قبیلہ لخم کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے ابنِ خطاب! میں آپ کو عدل و انصاف کے معاملے میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابنِ خطاب تو صرف عدل اور برابری ہی چاہتا ہے، اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ اگر ہجرت صنعاء کی طرف ہوتی تو لخم اور جذام کے بہت ہی کم لوگ ہجرت کر کے وہاں جاتے، لہٰذا میں ان لوگوں کو جنہوں نے سفر کی صعوبتیں برداشت کیں اور سواریاں خریدیں، ان لوگوں کے برابر نہیں قرار دے سکتا جنہوں نے محض اپنے ہی علاقوں میں رہ کر قتال کیا۔“ تب ابو حدیرج کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! اگر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے اسباب خود ہمارے ہی علاقوں میں مہیا فرما دیے اور ہم نے اس کی مدد کی اور اس کی تصدیق کی، تو کیا یہ بات اسلام میں ہمارے حق کو زائل کر دے گی؟“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور (تمہیں بھی) حصہ دوں گا“، آپ رضی اللہ عنہ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر لوگوں میں مال تقسیم فرمایا تو ہر مرد کو آدھا دینار ملا، اور اگر اس کے ساتھ اس کی بیوی ہوتی تو اسے ایک دینار عطا فرماتے، اور اگر اس کے ساتھ اس کا دادا ہوتا تو اسے بھی آدھا دینار دیتے۔