المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ البيان بأن النفل كان مشاعا لِمَنْ أخذه قَبْلَ أَنْ ينزل القسمة باب: تقسیم کا حکم نازل ہونے سے پہلے نفل کے اسے لینے والے کے لیے مباح ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2068
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَنَا وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِيرَ عَلَى حَيٍّ مِنْ كِنَانَةَ ، وَكَانَ الْفَيْءُ إِذْ ذَاكَ : مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ .ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم بنو کنانہ کے ایک قبیلے پر چھاپہ ماریں، اور اس وقت مالِ فئی (غنیمت) کا یہ ضابطہ تھا کہ جو شخص جو چیز بھی حاصل کر لیتا، وہ اسی کی ملکیت قرار پاتی تھی۔“