المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ رد الغنيمة قَبْلَ القسمة باب: تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت واپس کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَتْنِي قُتَيْلَةُ بِنْتُ جُمَيْعٍ ، ثَنِي يَزِيدُ بْنُ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ أَحْمَرَ الْمَازِنِيَّ ، أَحَدَ بَنِي رَبِيعَةَ بْنِ مَازِنٍ قَالَ : كُنْتُ فِي إِبِلٍ لِي أَرْعَاهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَغَارَتْ عَلَيْهَا خَيْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ خَيْلُ أَصْحَابِهِ ، فَجَمَعْتُ إِبِلِي وَرَكِبْتُ الْفَحْلَ فَتَفَاجَّ يَبُوبُ ، فَنَزَلْتُ عَنْهُ وَرَكِبْتُ نَاقَةً مِنْهَا ، فَنَجَوْتُ عَلَيْهَا وَسَاقُوا الْإِبِلَ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّهَا عَلَيَّ ، وَلَمْ يَكُنْ قَسَمَهَا بَعْدُ .سیدنا عمارہ بن احمر مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ”میں زمانہ جاہلیت میں اپنے اونٹوں کے ایک ریوڑ کو چرا رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کے سواروں نے یا آپ کے صحابہ کے شہسواروں نے ان پر چھاپہ مارا، تو میں نے اپنے اونٹوں کو اکٹھا کیا اور ایک نر اونٹ پر سوار ہو گیا لیکن وہ اپنی ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، چنانچہ میں اس سے نیچے اتر گیا اور ان میں سے ایک اونٹنی پر سوار ہو کر (گرفتار ہونے سے) بچ نکلا جبکہ وہ لوگ باقی اونٹ ہانک کر لے گئے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے وہ اونٹ مجھے واپس فرما دیے، اور اس وقت تک آپ ﷺ نے انہیں (مالِ غنیمت کے طور پر) تقسیم نہیں فرمایا تھا۔“