المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جريان السهام فيما بَيْعِ بذهب أَوْ فضة باب: سونے یا چاندی کے عوض فروخت شدہ مال میں حصے جاری ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2067
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : إِنَّ أُنَاسًا يُرِيدُونَ أَنْ يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ دِينِي ، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَرْجُو أَنْ لَا أَزَالَ عَلَيْهِ حَتَّى أَمُوتَ ، مَا مِنْ شَيْءٍ بِيعَ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَفِيهِ خُمُسُ اللهِ وَسِهَامُ الْمُسْلِمِينَ .ترجمہ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک کچھ لوگ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ مجھے میرے دین سے منحرف کر دیں، مگر اللہ کی قسم! میں یہ قوی امید رکھتا ہوں کہ میں اپنی وفات تک اسی دین پر ثابت قدم رہوں گا؛ سونے یا چاندی کے عوض جو چیز بھی فروخت کی جائے، اس میں اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ پانچواں حصہ (خمس) اور مسلمانوں کے حصے واجب ہیں۔“