❮
❯
حدیث نمبر: 2065
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَلْقَيْنَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ، وَهُوَ مُتَجَاوِزٌ وَادِيَ الْقُرَى فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِلَى مَا تَدْعُونَا ؟ قَالَ : إِلَى اللهِ وَحْدَهُ . قَالَ : فَهَذَا الْمَالُ هَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ : خُمُسٌ لِلهِ تَعَالَى ، وَأَرْبَعَةُ أَخْمِسَةٍ لِهَؤُلَاءِ ، وَإِنِ انْتَزَعْتَ مِنْ جَيْبِكِ سَهْمًا فَلَسْتَ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ . قَالَ : فَمَا هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : الْيَهُودُ . قَالَ : وَمَا هَؤُلَاءِ يَعْنِي الضَّالِّينَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : النَّصَارَى .
2065 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أُمِرْتَ بِهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ، يَعْنِي الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْيَهُودُ . قُلْتُ : وَمَنْ هَؤُلَاءِ ، يَعْنِي الضَّالِّينَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : النَّصَارَى . قُلْتُ : فَلِمَنِ الْمَغْنَمُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَذَكَرَهُ .
ترجمہ

سیدنا عبد اللہ بن شقیق ایک بلقینی صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ وادی القریٰ عبور فرما رہے تھے، اس نے عرض کی: ”اے محمد (ﷺ)! آپ ہمیں کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف اللہ وحدہ لا شریک کی طرف۔“ اس نے پوچھا: ”تو کیا اس مال (غنیمت) کا کوئی ایک شخص دوسرے سے زیادہ حقدار ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور باقی چار حصے ان (مجاہدین) کے لیے ہیں، اور اگر تم اپنے تھیلے سے ایک تیر بھی نکالو تو تم اس کے اپنے دوسرے (مسلمان) بھائی سے زیادہ حقدار نہیں ہو۔“ اس نے دریافت کیا: ”﴿الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ سے کون لوگ مراد ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہودی۔“ اس نے پھر پوچھا: ”اور ﴿الضَّالِّينَ﴾ سے کون مراد ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نصاریٰ (عیسائی)۔“ امام ابو یعلیٰ کی روایت میں وہی بلقینی صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔“ پھر میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ﴿الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ سے کون لوگ مراد ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہودی۔“ میں نے پوچھا: ”اور ﴿الضَّالِّينَ﴾ سے کون مراد ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نصاریٰ۔“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مالِ غنیمت کس کا ہے؟“ تو آپ ﷺ نے سابقہ تفصیل ذکر فرمائی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2065
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :وتابع أحمد عليه سعيد بن منصور في سننه (2/ 254: 2680)، فرواه عن هشيم به بنحوه. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 19838، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 143، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 3451، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 57، 4499/1، 4495/1»