المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الجزية والهدنة باب: جزیہ اور معاہدۂ صلح کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2061
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَسْلَمَ ، مَوْلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أُمَرَاءِ الْجِزْيَةِ أَنْ لَا يَضَعُوا الْجِزْيَةَ عَلَى النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْتِمُ أَهْلَ الْجِزْيَةِ فِي أَعْنَاقِهِمْ .ترجمہ
سیدنا اسلم، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جزیہ وصول کرنے والے حکام کی جانب یہ حکم لکھ بھیجا کہ ”وہ عورتوں اور بچوں پر جزیہ مقرر نہ کریں“، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جزیہ دینے والوں کی گردنوں پر (بطورِ علامت) مہر لگوا دیا کرتے تھے۔