المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ المعاهدة مَعَ أهل الشرك باب: مشرکین کے ساتھ صلح کے عہد و پیمان اور باہمی معاہدات کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ - هُوَ الْكَلْبِيُّ - عَنْ أَصْبَغَ بْنِ نُبَاتَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَ بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ يَثْبُتُوا عَلَى دِينِهِمْ ، وَلَا يُنَصِّرُوا أَبْنَاءَهُمْ ، وَإِنَّهُمْ قَدْ نَقَضُوا ، وَإِنَّهُ إِنْ يَتِمَّ لِيَ الْأَمْرُ قَتَلْتُ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَيْتُ الذُّرِّيَّةَ .
2029 \ 2 - وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ ، وَلَفْظُهُ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَالَحَ نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ لَا يُنَصِّرُوا أَوْلَادَهُمْ ، فَإِنْ فَعَلُوا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمُ الذِّمَّةُ . قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقَدْ وَاللهِ فَعَلُوا ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَتِمَّ لِيَ الْأَمْرُ لَأَقْتُلَنَّ مُقَاتِلَهُمْ وَلَأَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّهُمْ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے بنو تغلب کے لوگوں سے اس شرط پر صلح فرمائی تھی کہ وہ اپنے دین پر تو برقرار رہیں گے مگر اپنی اولاد کو عیسائی (نصرانی) نہیں بنائیں گے، لیکن انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا ہے؛ اگر میرا اقتدار مکمل طور پر مستحکم ہو گیا تو میں ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دوں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لوں گا۔“ ایک اور سند سے مروی الفاظ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”میں خود اس وقت موجود تھا جب نبی کریم ﷺ نے بنو تغلب کے نصاریٰ سے اس بات پر صلح فرمائی تھی کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائی نہیں بنائیں گے، پس اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان سے حفاظت کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (اپنے دورِ خلافت میں) فرمایا: ”اللہ کی قسم! انہوں نے (اپنے بچوں کو عیسائی بنا کر) اس عہد کی خلاف ورزی کر لی ہے، پس خدا کی قسم! اگر میرا اقتدار پوری طرح قائم ہو گیا تو میں ضرور ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کروں گا اور ان کی ذریت کو لونڈی غلام بنا لوں گا۔“ اس روایت کی سند میں محمد بن السائب الکلبی نامی راوی موجود ہے (جو فنی اعتبار سے کلام کا شکار ہے)۔