المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ المعاهدة مَعَ أهل الشرك باب: مشرکین کے ساتھ صلح کے عہد و پیمان اور باہمی معاہدات کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2028
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَاءَتْهُ جُهَيْنَةُ ، فَقَالُوا لَهُ : إِنَّكَ قَدْ نَزَلْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَوْثِقْ لَنَا حَتَّى نَأْمَنَكَ وَتَأْمَنَّا . قَالَ : فَأَوْثَقَ لَهُمْ وَلَمْ يُسْلِمُوا .ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ کے لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”بے شک آپ ہمارے ہاں آ کر مقیم ہوئے ہیں، لہٰذا ہمارے ساتھ (امن کا) کوئی پختہ عہد و پیمان کر لیجیے تاکہ ہم آپ کی طرف سے مامون ہو جائیں اور آپ ہماری طرف سے پرامن ہو جائیں۔“ راوی فرماتے ہیں کہ: ”پس آپ ﷺ نے ان کے ساتھ عہد و پیمان فرما لیا حالانکہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔“