❮
❯
حدیث نمبر: 2028
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَاءَتْهُ جُهَيْنَةُ ، فَقَالُوا لَهُ : إِنَّكَ قَدْ نَزَلْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَوْثِقْ لَنَا حَتَّى نَأْمَنَكَ وَتَأْمَنَّا . قَالَ : فَأَوْثَقَ لَهُمْ وَلَمْ يُسْلِمُوا .
ترجمہ

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ کے لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”بے شک آپ ہمارے ہاں آ کر مقیم ہوئے ہیں، لہٰذا ہمارے ساتھ (امن کا) کوئی پختہ عہد و پیمان کر لیجیے تاکہ ہم آپ کی طرف سے مامون ہو جائیں اور آپ ہماری طرف سے پرامن ہو جائیں۔“ راوی فرماتے ہیں کہ: ”پس آپ ﷺ نے ان کے ساتھ عہد و پیمان فرما لیا حالانکہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2028
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب رجال إسناده ثقات غير مجالد بن سعيد ضعيف، ومدار الحديث عليه. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 1542، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 1، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9938، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 4878، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4168/1، 4400»