المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا جهاد عَلَى النساء باب: عورتوں پر جہاد فرض نہ ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : إِنَّ أُمَّ كَبْشَةَ ، امْرَأَةً مِنْ عُرَنَةَ - عُرَنَةَ قُضَاعَةَ - قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ أَخْرُجَ فِي جَيْشِ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي لَيْسَ أُرِيدُ أَنْ أُقَاتِلَ ، إِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ أُدَاوِيَ الْجَرْحَى وَالْمَرِيضَ - أَوْ : أَسْقِيَ الْمَرِيضَ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً ، وَأَنَّ فُلَانَةَ خَرَجَتْ لَأَذِنْتُ لَكِ وَلَكِنِ اجْلِسِي .
2027 \ 2 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .سیدہ ام کبشہ رضی اللہ عنہا، جو قبیلہ قضاعہ کی شاخ عرنہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تھیں، سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ ﷺ! مجھے فلاں فلاں لشکر کے ساتھ جانے کی اجازت عطا فرمائیں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ ﷺ! میرا ارادہ قتال کرنے کا نہیں ہے، میں تو محض زخمیوں کا علاج اور مریضوں کی تیمارداری کرنا چاہتی ہوں— یا (راوی کو شک ہے کہ یہ کہا:) مریضوں کو پانی پلانا چاہتی ہوں— “ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ ایک (مستقل) طریقہ بن جائے گا اور یہ کہا جائے گا کہ فلاں عورت (غزوے کے لیے) نکلی تھی، تو میں تمہیں ضرور اجازت دے دیتا، لیکن تم گھر پر ہی رہو۔“ امام ابو یعلیٰ نے بھی یہ روایت امام ابوبکر (ابن ابی شیبہ) سے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔