المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا يجاهد العبد إِلَّا بإذن سيده باب: غلام کے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر جہاد نہ کرنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَمَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ، فَاتَّبَعَهُ عَبْدٌ لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ : فُلَانٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : أُجَاهِدُ مَعَكَ . قَالَ : أَذِنَتْ لَكَ سَيِّدَتُكَ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا وَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ . فَرَجَعَ إِلَيْهَا وَقَرَأَ عَلَيْهَا السَّلَامَ ، وَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ : آللهِ أَهُوَ أَمَرَكَ أَنْ تَقْرَأَ عَلَيَّ السَّلَامَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَتِ : ارْجِعْ فَجَاهِدْ مَعَهُ .سیدنا حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے کسی غزوہ کے دوران قبیلہ مزینہ کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک خاتون کا غلام آپ ﷺ کے ساتھ ہو لیا، پھر جب وہ راستے میں کہیں پہنچا تو اس نے آپ ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم فلاں ہو؟“ اس نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا کیا ارادہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”میں آپ کے ہمراہ جہاد کرنا چاہتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہاری مالکن نے تمہیں اجازت دی ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”نہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنی مالکن کے پاس واپس جاؤ اور انہیں میرا سلام کہو۔“ چنانچہ وہ اس خاتون کے پاس واپس آیا اور انہیں سلام پہنچا کر سارا ماجرا سنایا تو انہوں نے دریافت کیا: «آللّٰهِ! أَهو أَمَرَكَ أَنْ تَقْرَأَ عَلَيَّ السَّلَامَ؟» ”اللہ کی قسم! کیا واقعی انہوں نے تمہیں مجھے سلام پیش کرنے کا حکم دیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ تو اس خاتون نے کہا: ”اب تم واپس جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔“