المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الجعل عَلَى الجهاد باب: جہاد (فی سبیل اللہ) پر اجرت یا مالی معاوضہ لینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2023
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ - يَعْنِي حَدِيثًا قَبْلَهُ - لَفْظُهُ : مَا أَجِدُ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ غَزْوَتِهِ غَيْرَ هَذِهِ الدَّنَانِيرِ الَّتِي جُعِلَتْ لَهُ ، قَالَهُ لِيَعْلَى بْنِ مُنَبِّهٍ فِي قِصَّةِ أَجِيرٍ لَهُ .ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسی کے مثل (پہلی حدیث جیسی) روایت بیان فرمائی جس کے الفاظ یہ ہیں: ”میں اس شخص کے لیے دنیا اور آخرت میں اس کے غزوے کا بدلہ ان چند دیناروں کے سوا کچھ نہیں پاتا جو اس کے لیے مقرر کر دیے گئے ہیں“، آپ ﷺ نے یہ بات سیدنا یعلیٰ بن منبہ رضی اللہ عنہ کے ایک اجیر (مزدور) کے قصے کے متعلق ارشاد فرمائی تھی۔