المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السبق والرمي وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرمي باب: دوڑ کے مقابلے، تیر اندازی اور تیر اندازی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2004
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : قَاتِلُوا أَهْلَ الْكُفْرِ فَمَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فَلَهُ دَرَجَةٌ . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا الدَّرَجَةُ ؟ قَالَ : مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .ترجمہ
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے دن ارشاد فرمایا: ”کفار سے قتال کرو، کیونکہ جو شخص (دشمن کو) ایک تیر بھی مارے گا تو اس کے لیے (جنت میں) ایک درجہ ہے۔“ عرض کیا گیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! وہ درجہ کیا (کتنی وسعت والا) ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(اس کی وسعت) آسمان اور زمین کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے۔“ اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔