المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السبق والرمي وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرمي باب: دوڑ کے مقابلے، تیر اندازی اور تیر اندازی کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ ; فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ، وَأَنَا مَعَ ابْنِ الْأَكْوَعِ . فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَرْمِي وَقَدْ قُلْتَ : وَأَنَا مَعَ ابْنِ الْأَكْوَعِ ، وَقَدْ عَلِمْنَا أَنَّ حِزْبَكَ لَا يُغْلَبُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ .سیدنا قعقاع بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارے جدِ امجد بھی تیر انداز تھے، اور میں ابن اکوع کے ساتھ ہوں۔“ تب ان لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لیے تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا، تم تیر اندازی کیوں نہیں کر رہے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم کیسے مقابلہ کریں جبکہ آپ ﷺ نے فرما دیا ہے کہ ”میں ابن اکوع کے ساتھ ہوں“ اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ جس گروہ کے ساتھ ہوں وہ کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم تیر اندازی جاری رکھو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔“