المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السبق والرمي وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرمي باب: دوڑ کے مقابلے، تیر اندازی اور تیر اندازی کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا سَالِمُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لِكُلِّ مُسْلِمٍ ثَلَاثٌ : مَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَرْمِي بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى فِي الْعَدُوِّ أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ ، إِلَّا كَانَ أَجْرُ ذَلِكَ السَّهْمِ لَهُ كَعَدْلِ نَسَمَةٍ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ابْيَضَّتْ مِنْهُ شَعَرَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى إِلَّا كَانَتْ لَهُ نُورًا تَسْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَعْتَقَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى أَنْ يَجْزِيَهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً .سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”ہر مسلمان کے لیے تین فضیلتیں ہیں: کوئی بھی مسلمان جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں دشمن پر تیر چلائے، خواہ وہ نشانے پر لگے یا خطا ہو جائے، تو اس تیر کا اجر اس کے لیے ایک جان آزاد کرنے کے برابر ہوتا ہے؛ اور جس مسلمان کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی بال سفید ہو جائے، تو وہ بال قیامت کے دن اس کے لیے ایک نور ہوگا جو اس کے سامنے روشنی پھیلاتا ہوا چل رہا ہوگا؛ اور جو مسلمان کسی چھوٹے یا بڑے (غلام) کو آزاد کرے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر یہ حق لازم کر لیا ہے کہ وہ اسے اس (غلام) کے ہر عضو کے بدلے میں کئی گنا بڑھا چڑھا کر جزا عطا فرمائے۔“