المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السبق والرمي وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرمي باب: دوڑ کے مقابلے، تیر اندازی اور تیر اندازی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2002
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أُنَاسٍ يَرْمُونَ ، فَقَالَ : خُذُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الْأَدْرَعِ . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَأْخُذُ وَأَنْتَ مَعَ بَعْضِنَا دُونَ بَعْضٍ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا وَأَنَا مَعَكُمْ يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ .ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے (مقابلے کی ترغیب دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم لوگ تیر اندازی کرو اور میں ابنِ ادرع کے ساتھ ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم بھلا کیسے تیر اندازی کا مقابلہ کریں جبکہ آپ ہمارے ایک گروہ کے ساتھ ہیں اور دوسرے کے ساتھ نہیں؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو اسماعیل! تم سب تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔“