المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السبق والرمي وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرمي باب: دوڑ کے مقابلے، تیر اندازی اور تیر اندازی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2000
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَفَّحَ النَّاسَ فَرَأَى رَجُلًا وَبِيَدِهِ قَوْسٌ عَرَبِيَّةٌ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ بِهَذِهِ وَأَمْثَالِهَا ، وَرِمَاحِ الْقَنَا ; فَإِنَّ بِهَذَا يُمَكِّنُ اللهُ تَعَالَى لَكُمْ فِي الْبِلَادِ وَيُؤَيِّدُ لَكُمْ فِي النَّصْرِ .
2000 \ 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ ، هُوَ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ بِهَذَا .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کا جائزہ لیا تو آپ ﷺ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جس کے ہاتھ میں ایک عربی کمان تھی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اس (کمان) کو اور اس جیسی دیگر (کمانوں) کو نیز بانس کے نیزوں کو اپنے اوپر لازم کرلو؛ کیونکہ اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں شہروں میں غلبہ و اقتدار عطا فرمائے گا اور تمہاری نصرت و تائید فرمائے گا۔“ اور امام طیالسی نے (اپنی مسند میں) کہا ہے کہ ہمیں اشعث بن سعید نے، جو کہ ابو الربیع السمان ہیں، اسی سند و متن کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔