❮
❯
حدیث نمبر: 1972
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَوْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِذَا بَعَثْتَ سَرِيَّةً فَلَا تُفْسِدْهُمْ وَأَهْبِطْهُمْ ; فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْصُرُ الْقَوْمَ بِأَضْعَفِهِمْ .
ترجمہ

اهلِ مدینہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ یا سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”جب تم کوئی لشکر (سرِیّہ) روانہ کرو تو (سخت مشقت یا بے تدبیری کے ذریعے) ان کو تباہ و ضائع نہ کرو، اور انہیں ہموار و آراستہ جگہوں پر پڑاؤ کرواؤ؛ کیونکہ اللہ تعالی (کسی بھی) قوم کی نصرت و مدد ان کے سب سے کمزور افراد کی (برکت یا دعاؤں کی) وجہ سے فرماتا ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1972
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل، معضل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث في إسناده من لم أقف على إسمه، ثم إنه مرسل أو معضل، وبقية رجاله رجال الشيخين. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»