المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ المركب الوطيء باب: نرم رفتار اور آرام دہ سواری کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1973
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ - هُوَ الْفَزَارِيُّ - عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى مَنْزِلًا فِيهِ ضِيقٌ ، فَضَيَّقَ النَّاسُ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ ، فَنَادَى مُنَادِيهِ : مَنْ حَبَسَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ .ترجمہ
ایک صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک تھے، آپ ﷺ نے ایک ایسی قیام گاہ ملاحظہ فرمائی جس میں وسعت کم تھی، لوگوں نے وہاں (غیر ضروری جگہ گھیر کر) اسے مزید تنگ کر دیا اور راستہ بھی مسدود کر دیا، تب رسول اللہ ﷺ کے منادی نے یہ اعلانِ عام فرمایا: ”جس نے قیام گاہ کو دوسروں پر تنگ کیا یا راستہ روکا، تو اس کا کوئی جہاد نہیں (یعنی وہ اس بد نظمی کے باعث کامل اجر و ثواب سے محروم رہا)۔“