المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ المركب الوطيء باب: نرم رفتار اور آرام دہ سواری کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1970
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَوْصَابِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَكْثَمَ بْنَ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيَّ الْكَعْبِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَكْثَمُ بْنَ الْجَوْنِ ، اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ يَحْسُنْ خُلُقُكَ ، وَتَكْرُمْ عَلَى رُفَقَائِكَ .ترجمہ
سیدنا اکثم بن الجون الخزاعی الکعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے اکثم بن الجون! اپنی قوم کے علاوہ (دوسری قوم/لوگوں) کے ساتھ مل کر غزوے و جہاد کے لیے نکلا کرو، (اس سے) تمہارے اخلاق عمدہ ہوں گے اور تم اپنے ساتھیوں میں معزز و محترم رہو گے“۔