المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ المركب الوطيء باب: نرم رفتار اور آرام دہ سواری کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ خَدَمَ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَمَنْ سَقَى رَجُلًا فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَدَ حَوْضَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرُوا اشْتَرَطَ عَلَى أَفْضَلِهِمُ الْخِدْمَةَ ، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ذَلِكَ اشْتَرَطَ الْأَذَانَ ، قَالَ : وَوَفَدَ قَوْمٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ فَرَأَى فِيهِمْ قَوْمًا قَدْ أَجْهَدَتْهُمُ الْعِبَادَةُ ، فَقَالَ : مَنْ كَانَ يَخْدُمُهُمْ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتُمْ أَفْضَلُ مِنْهُمْ .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ تعالی کی راہ (جہاد/سفر) میں بارہ افراد کی خدمت کی، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر نکلتا ہے جیسے اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا، اور جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں کسی شخص کو پانی پلایا، وہ قیامت کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوضِ کوثر پر وارد ہوگا“۔
(راوی کہتے ہیں:) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب (صحابه کے ساتھ) سفر فرماتے تو ان میں سے جو سب سے افضل ہوتے ان پر خدمت کی شرط عائد فرماتے، اور جسے یہ موقع نہ ملتا اس پر اذان دینے کی شرط عائد فرماتے۔
(راوی مزید کہتے ہیں:) اور ایک قوم کسی غزوے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں کچھ ایسے لوگ دیکھے جنہیں (کثرتِ) عبادت نے نڈھال اور مشقت میں ڈال رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ان کی خدمت کون کرتا تھا؟“ ان میں سے بعض نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کرتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان (عبادت کرنے والوں) سے زیادہ افضل ہو“۔