المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ المركب الوطيء باب: نرم رفتار اور آرام دہ سواری کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1968
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُجَاهِدًا ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَصْحَبَهُ رَجُلٌ فِي سَفَرِهِ اشْتَرَطَ أَنْ لَا يَصْحَبَنَا عَلَى بَعِيرٍ غَيْرِ حَلَالٍ ، وَلَا يُنَازِعَنَا الْأَذَانَ ، وَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِنَا . قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ رَجُلٌ يَصْحَبُهُ فِي السَّفَرِ ، فَيَأْمُرُنَا أَنْ نُوقِظَهُ وَنُهَيِّئَ لَهُ سَحُورَهُ .ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص سفر میں آپ کی رفاقت اختیار کرنے کا ارادہ کرتا تو آپ اس پر یہ شرط عائد فرماتے کہ وہ ہمارے ساتھ ایسے اونٹ پر سفر نہیں کرے گا جو حلال (جائز و طیب) نہ ہو، اذان دینے کے معاملے میں ہم سے نزاع و تکرار نہیں کرے گا، اور ہماری اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہیں رکھے گا۔
امام نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آپ کے ساتھ سفر میں شریک تھا، تو آپ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اسے (سحری کے لیے) بیدار کریں اور اس کے لیے سحری کا کھانا تیار کریں۔