المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرايات والألوية باب: جھنڈوں اور علموں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1962
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَجَّاجٍ ، ثَنَا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، ثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَايَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوْدَاءَ ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”بے شک رسول اللہ ﷺ کا علَم (رایہ) سیاہ رنگ کا تھا اور آپ ﷺ کا پرچم (لواء) سفید رنگ کا تھا“
علمائے لغت اور شارحینِ حدیث کے مطابق 'رایہ' اس بڑے پرچم کو کہتے ہیں جو میدانِ جنگ میں لشکر کی مجموعی قیادت کا نشان ہوتا ہے، جبکہ 'لواء' وہ جھنڈا ہے جو خاص طور پر سپہ سالار کی علامت کے طور پر لہرایا جاتا ہے۔