المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قتل النساء والصبيان والتجار والوفود والرسل باب: عورتوں، بچوں، تاجروں، وفود اور قاصدوں کو قتل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1955
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَجَعَلَ الْحَمْدَ مَعَهُ ثَلَاثً ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَهُ اللهُ تَعَالَى ، أَيُّ كَلِمَةٍ صَبَّهَا الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ ؟ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَافِدًا مِنَ الْعَرَبِ قَتَلْتُهُ .
مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .ترجمہ
حضرت قیس سے مروی ہے کہ ایک شخص اللہ کے نبی ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس حمد کے ساتھ ہی (نازیبا طریقے سے) تین بار تذکرہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اسے غارت کرے، یہ کیسا کلمہ ہے جو شیطان نے اس پر انڈیل دیا ہے؟ اگر میں عرب کے وفود میں سے کسی آنے والے کو قتل کرنے والا ہوتا تو یقیناً اسے قتل کر دیتا۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔