❮
❯
حدیث نمبر: 1955
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَجَعَلَ الْحَمْدَ مَعَهُ ثَلَاثً ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَهُ اللهُ تَعَالَى ، أَيُّ كَلِمَةٍ صَبَّهَا الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ ؟ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَافِدًا مِنَ الْعَرَبِ قَتَلْتُهُ .
مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .
ترجمہ

حضرت قیس سے مروی ہے کہ ایک شخص اللہ کے نبی ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس حمد کے ساتھ ہی (نازیبا طریقے سے) تین بار تذکرہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اسے غارت کرے، یہ کیسا کلمہ ہے جو شیطان نے اس پر انڈیل دیا ہے؟ اگر میں عرب کے وفود میں سے کسی آنے والے کو قتل کرنے والا ہوتا تو یقیناً اسے قتل کر دیتا۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1955
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث إسناده صحيح، وهو مرسل؛ لأن قيسًا أدرك النبي صلى الله عليه وسلم ولم يره، وقد وصله ابن عيينة كما في رواية عبد الرزاق. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»