المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الجهاد باب: جہاد کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرُوا عَلَى اللهِ وَاسْتَقْرِضُوا عَلَى اللهِ . قِيلَ : مَنْ يَسْتَقْرِضُ عَلَى اللهِ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَوْلُكُمْ : أَقْرِضْنَا إِلَى مَعَاشِنَا ، وَبِعْنَا إِلَى أَنْ يَفْتَحَ اللهُ لَنَا ، لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ جِهَادُكُمْ ، وَسَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَشُكُّونَ فِي الْجِهَادِ ، فَجَاهِدُوا فِي زَمَانِهِمْ وَاغْزُوا ، فَإِنَّ الْغَزْوَ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کے بھروسے پر (ضروریات زندگی) خریدو اور اللہ ہی کے توکل پر قرض کا معاملہ کیا کرو۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اللہ کے بھروسے پر قرض لینے سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا یہ کہنا کہ: «أَقْرِضْنَا إِلَى مَعَاشِنَا» 'اے اللہ! ہمیں ہماری زندگی کی گزر بسر تک قرض (وسعت) عطا فرما' اور 'ہمیں اس وقت تک (ادھار پر) سودا بیچ جب تک کہ اللہ ہمارے لیے (رزق و فتوحات کے) دروازے نہ کھول دے'۔ تم لوگ اس وقت تک خیر و برکت پر رہو گے جب تک تمہارا جہاد جاری رہے گا، اور عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جہاد (کی ضرورت و اہمیت) میں شک و شبہ کا اظہار کریں گے، پس تم ان کے دور میں بھی جہاد جاری رکھنا اور اللہ کی راہ میں نبرد آزما ہونا، کیونکہ اس پرفتن دور میں جہاد و قتال کرنا سراسر خیر و بھلائی کا باعث ہو گا۔“