المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الجهاد باب: جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1947
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَرَجَ حَاجًّا فَمَاتَ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْحَاجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى فَمَاتَ ، كُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْغَازِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَمَاتَ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُعْتَمِرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص حج کے ارادے سے نکلا اور (راستے ہی میں) اس کا انتقال ہو گیا تو اس کے لیے قیامت کے دن تک حج کرنے والے کا اجر لکھا جاتا رہے گا، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا تو اس کے لیے قیامت کے دن تک غازی کا ثواب لکھا جاتا رہے گا، اور جو شخص عمرہ کی نیت سے نکلا اور وفات پا گیا تو اس کے لیے قیامت کے دن تک عمرہ کرنے والے کا اجر لکھ دیا جائے گا۔“