❮
❯
حدیث نمبر: 1945
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَامَ يَزِيدُ بْنُ شَجَرَةَ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا أَصْبَحَتْ عَلَيْكُمْ وَأَمْسَتْ مِنْ بَيْنِ أَحْمَرَ وَأَخْضَرَ وَأَصْفَرَ ، وَفِي الْقُبُورِ مَا فِيهَا ، فَإِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ غَدًا ، فَقُدُمًا قُدُمًا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا تَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ خُطْوَةٍ إِلَّا تَقَدَّمَ إِلَيْهِ الْحُورُ الْعِينُ ، فَإِنْ تَأَخَّرَ اسْتَأْخَرْنَ ، وَإِنِ اسْتُشْهِدَ كَانَتْ أَوَّلُ نَضْحَةٍ كَفَّارَةَ خَطَايَاهُ ، وَيَنْزِلُ إِلَيْهِ اثْنَتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَيَنْفُضَانِ عَنْهُ التُّرَابَ ، وَتَقُولَانِ : مَرْحَبًا قَدْ آنَ لَكَ ، وَيَقُولُ : مَرْحَبًا قَدْ آنَ لَكُمَا .
1945 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، بِهَذَا .
ترجمہ

حضرت مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک تمہاری صبح و شام (دنیا کے) سرخ، سبز اور زرد رنگوں کی رعنائیوں میں گزر رہی ہے، جبکہ قبروں میں وہ کچھ پوشیدہ ہے جو وہاں ہے، لہٰذا کل جب تمہارا دشمن سے سامنا ہو تو ثابت قدمی سے آگے ہی قدم بڑھانا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میدانِ کارزار میں جو شخص ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو حورِ عین اس کی طرف آگے بڑھتی ہیں، اور اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو وہ بھی پیچھے ہٹ جاتی ہیں، اور اگر وہ جامِ شہادت نوش کر لے تو اس کے خون کا پہلا چھینٹا اس کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، پھر اس کے پاس دو حورِ عین اترتی ہیں جو اس کے وجود سے مٹی جھاڑتی ہیں اور کہتی ہیں: «مَرْحَبًا قَدْ آنَ لَكَ» (خوش آمدید، تمہارا وقت آ پہنچا ہے)، تو وہ شہید بھی جواب میں کہتا ہے: «مَرْحَبًا قَدْ آنَ لَكُمَا» (خوش آمدید، تمہارا بھی وقت آ گیا ہے)۔“
امام عبد بن حمید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1945
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 6141، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 2564، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 441، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1945 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 9538، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 19674، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2203»