❮
❯
حدیث نمبر: 1944
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَعَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى كَانَ لَهُ بِهَا صَخْرَةٌ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَثْقَلُ مِنَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا فِيهِنَّ وَمَا بَيْنَهُنَّ وَمَا تَحْتَهُنَّ ، وَمَنْ قَالَ فِي سَبِيلِ اللهِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ ، كَتَبَ اللهُ تَعَالَى لَهُ رِضْوَانَهُ الْأَكْبَرَ ، وَمَنْ كَتَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ رِضْوَانَهُ الْأَكْبَرَ جَمَعَ بَيْنِهِ وَبَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدٍ عَلَيْهِمَا الصَّلَوَاتُ وَالسَّلَامُ فِي دَارِ الْجَلَالِ . فَقِيلَ : وَمَا دَارُ الْجَلَالِ ؟ قَالَ : دَارُ اللهِ تَعَالَى الَّتِي سَمَّى بِهَا نَفْسَهُ ، فَيَنْظُرُ إِلَى ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ بُكْرَةً وَمَسَاءً ، وَقَدْ حُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى قَاتِلِ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ ، وَعَاقِّ الْوَالِدَيْنِ ، وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ ، وَأَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک مرتبہ تکبیر کہی تو قیامت کے دن اس کے ترازو میں اس کے بدلے ایک ایسی عظیم الشان چٹان ہوگی جو ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور جو کچھ ان کے اندر، ان کے درمیان اور ان کے نیچے ہے، ان سب سے زیادہ وزنی ہوگی، اور جس نے اللہ کی راہ میں اپنی آواز بلند کرتے ہوئے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی سب سے بڑی خوشنودی ﴿وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ (سورة التوبة: 72) لکھ دیتا ہے، اور جس کے لیے اللہ عزوجل نے اپنی سب سے بڑی رضا لکھ دی، اسے 'دارِ جلال' میں سیدنا ابراہیم اور سیدنا محمد (علیہما الصلوات والسلام) کی معیت میں جمع فرمائے گا“۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! 'دارِ جلال' کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا وہ خاص مقام ہے جس کا نام اس نے خود اپنی صفت پر رکھا ہے، پس وہ (خوش نصیب بندہ) وہاں صبح و شام اللہ ذوالجلال والاکرام کے دیدارِ انوار سے فیضیاب ہوگا، البتہ یہ عظیم مرتبہ کسی مومن جان کے قاتل اور والدین کے نافرمان پر حرام کر دیا گیا ہے، ایسے لوگ مجھ سے جدا ہیں اور میں ان سے بیزار ہوں“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1944
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب إسناده تالف، فيه داود بن المحبّر وعبّاد بن كثير متروكان، وفيه أيضًا راو لم يسم. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3630»