❮
❯
حدیث نمبر: 194
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِحْدَانَا تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَجِدُ شَهْوَةً ؟ " قَالَتْ : لَعَلَّهُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلْ تَجِدُ مَاءً ؟ " قَالَتْ : لَعَلَّهُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْتَغْتَسِلْ " .
هَذَا سَنَدٌ صَحِيحٌ ، لَكِنْ لَهُ عِلَّةٌ .
194 \ 2 - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، قَالُوا : إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ : " بَلَلًا " بَدَلَ " مَاءً " .
وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " قَالَ : إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ . فَلَقِيَهَا نِسْوَةٌ فَقُلْنَ لَهَا : فَضَحْتِينَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَقَالَتْ : مَا كُنْتُ لِأَنْتَهِيَ حَتَّى أَعْلَمَ أَنَا فِي حَلَالٍ أَمْ فِي حَرَامٍ " !
قُلْتُ : وَأَصْلُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ النَّسَائِيِّ مِنْ طَرِيقِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ ، لَكِنَّ ظَاهِرَ سِيَاقِهِ أَنَّهُ مِنْ مُسْنَدِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَأَصْلُ الْقِصَّةِ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ طَرِيقِ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا .
ترجمہ

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا (جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض گزار ہوئی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم عورتوں کو بھی خواب میں وہی کچھ نظر آتا ہے جو ایک مرد کو (احتلام کی صورت میں) نظر آتا ہے؟“ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا وہ شہوت و لذت محسوس کرتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”شاید ہاں۔“ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”تو کیا وہ (بیدار ہونے پر) پانی یا رطوبت بھی پاتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”شاید ایسا ہی ہوتا ہے۔“ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس اسے غسل کر لینا چاہیے۔“
یہ سند بظاہر صحیح ہے، تاہم اس میں ایک فنی علت ہے۔ امام اسحاق نے ایک اور طریق سے یہی واقعہ روایت کیا ہے جس میں ”پانی“ کے بجائے ”تری یا نمی“ کا لفظ ہے، اور اس کے آخر میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب عورت خواب میں ایسا کچھ دیکھے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔“ (سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ) پھر کچھ عورتیں مجھے ملیں اور (ازراہِ حجاب) کہنے لگیں: ”تم نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہمیں رسوا کر دیا (کہ ایسی شرم والی بات برملا پوچھ لی)!“ اس پر انہوں نے جواب دیا: ”میں (دینی مسائل پوچھنے سے) ہرگز باز نہیں آؤں گی یہاں تک کہ مجھے یہ علم ہو جائے کہ میں حلال کی حالت میں ہوں یا حرام (یعنی میری عبادت درست ہے یا نہیں)۔“
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی اصل سنن نسائی میں سعید بن ابی عروبہ از قتادہ از انس از ام سلیم رضی اللہ عنہما کی سند سے موجود ہے، جبکہ امام مسلم نے اسے سعید ہی کے ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے لیکن اس کے سیاق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مسند سے ہے، نیز اس قصے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں زینب بنت ام سلمہ از ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے بھی موجود ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الغسل / حدیث: 194
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا سَنَدٌ صَحِيحٌ ، لَكِنْ لَهُ عِلَّةٌ . »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 236، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 765، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 5»