المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْغُسْلِ مِنَ الِاحْتِلَامِ باب: احتلام کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ - يُقَالُ لَهَا : بُسْرَةُ - إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِحْدَانَا تَرَى أَنَّهَا مَعَ زَوْجِهَا فِي الْمَنَامِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَجَدْتِ بَلَلًا فَاغْتَسِلِي يَا بُسْرَةُ " . قَالَ : فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : فَضَحْتِ النِّسَاءَ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعِيهَا تَسْأَلُ عَمَّا بَدَا لَهَا ، تَرِبَ جَبِينُكِ ، أَوْ تَرِبَتْ يَمِينُكِ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون، جن کا نام بسرہ رضی اللہ عنہا تھا، نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی عورت (خواب میں) یہ دیکھتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے (یعنی اسے احتلام ہوتا ہے، تو کیا حکم ہے)؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے بسرہ! جب تم (بیدار ہونے پر) تری محسوس کرو تو غسل کر لیا کرو۔“ راوی کا بیان ہے کہ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (ازراہِ حیا) ان سے کہا: ”تم نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا!“ تو نبی کریم ﷺ نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”انہیں رہنے دو، وہ اپنے پیش آمدہ مسئلے کے بارے میں دریافت کر رہی ہیں، «تَرِبَ جَبِينُكِ، أَوْ تَرِبَتْ يَمِينُكِ» ”تمہاری پیشانی خاک آلود ہو، یا تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔““
تخریج و تحکیم: اس روایت کی سند میں عبد اللہ بن مؤمل ضعیف راوی ہے، تاہم احتلام کی صورت میں تری پانے پر غسل کا وجوب دیگر صحیح و مستند احادیث سے ثابت ہے۔