المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْغُسْلِ مِنَ الِاحْتِلَامِ باب: احتلام کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 195
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ عَتِيقٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ : إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ فُلَانًا يَنْكِحُنِي ، فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِذَا رَأَتِ الرَّطْبَ فَلْتَغْتَسِلْ " .ترجمہ
سلیمان بن عتیق سے روایت ہے کہ ایک خاتون ام سلیم رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا فلاں شخص میرے ساتھ ہم بستری کر رہا ہے“، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب وہ (خواب سے بیدار ہونے کے بعد) تری یا رطوبت دیکھ لے تو اسے غسل کر لینا چاہیے۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کو بھی مرد کی طرح احتلام ہو سکتا ہے، تاہم غسل تبھی واجب ہوگا جب بیداری کے بعد اثرات (رطوبت) پائے جائیں۔