المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الجهاد باب: جہاد کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عُمَرَ بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَيْشًا وَفِيهِمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا سَارَ رَأَى مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : مَا حَبَسَكَ ؟ قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَخْرُجَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .سیدنا ابو زرعہ بن عمر بن جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، پھر جب لشکر کوچ کر گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو (وہیں موجود) دیکھ کر دریافت فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے روک لیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میرا ارادہ تھا کہ پہلے جمعہ کی نماز ادا کر لوں اور پھر روانہ ہوں“، اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یقیناً اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، ان سب سے بہتر ہے“۔