❮
❯
حدیث نمبر: 1934
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ شَيْخٍ - يُقَالُ لَهُ : الْحَفْصِيُّ - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَذَّنَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَذَّنَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيَاتَهُ ، وَلَمْ يُؤَذِّنْ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُؤَذِّنَ ؟ قَالَ : إِنِّي أَذَّنْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ ، وَأَذَّنْتُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى قُبِضَ ; لِأَنَّهُ كَانَ وَلِيَّ نِعْمَتِي ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَا بِلَالُ ، لَيْسَ شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ عَمَلِكَ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَخَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَجَاهَدَ .
1934 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ وَأَبُو يَعْلَى جَمِيعًا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهِ .
( 83 ) وَحَدِيثُ الْقَتْلِ يُكَفِّرُ الذُّنُوبَ إِلَّا الْأَمَانَةَ ، يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ النِّسَاءِ .
ترجمہ

امام ابو بکر بن ابی شیبہؒ، حسین بن علیؒ کے واسطے سے ایک بزرگ (جنہیں الحفصی کہا جاتا ہے) سے، وہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں اذان دی، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی بھر ان کے دورِ خلافت میں بھی اذان کے فرائض سرانجام دیتے رہے، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں انہوں نے اذان نہیں دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو اذان دینے سے کیا امر مانع ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے اذان دی یہاں تک کہ آپ ﷺ وفات پا گئے، اور میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے اذان دی یہاں تک کہ وہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملے، کیونکہ وہ میرے محسن و مربی تھے (جنہوں نے مجھے غلامی سے آزادی دلائی تھی)، اور میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”اے بلال! تمہارے اس عمل (اذان) سے بڑھ کر کوئی چیز فضیلت والی نہیں، سوائے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے۔“ چنانچہ (اسی فضیلت کی طلب میں) وہ شام کی طرف نکل گئے اور وہاں جہاد میں مصروف ہو گئے۔
امام عبد بن حمید اور امام ابو یعلیٰ رحمہما اللہ دونوں فرماتے ہیں کہ ہمیں ابو بکر بن ابی شیبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔ نیز وہ حدیث جس میں ذکر ہے کہ راہِ خدا میں قتل ہونا (شہادت) امانت کے سوا تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ ﴿سورة النساء﴾ کی تفسیر میں آئے گی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1934
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث حسن بمجموع طرقه، وإن كان حفص بن عمر بن سعد وأباه عمر بن سعد لم يوثقهم معتبر، غير ابن حبّان، وهو متساهل ويوثّق المجاهيل، لكنهم لم ينفردوا به، بل تابعهم عليه جماعة، ولم يأتوا بما ينكر عليهم، ومن هذه حاله، فحديثه حسن، ولذا قال عنهما الحافظ في التقريب: "مقبول". »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 361، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1934 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1013»