المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الجهاد باب: جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1936
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا سَعِيدٌ - هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ - ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - هُوَ أَبُو الْأَسْوَدِ - عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَوْقِفُ سَاعَةٍ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى أَفْضَلُ مِنْ شُهُودِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ .
خَالَفَهُ عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ ، عَنِ الْمُقْرِئِ ، فَقَالَ : عَنْ مُجَاهِدٍ بَدَلَ يُونُسَ . أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھڑی (جہاد کے لیے) کھڑا ہونا، حجرِ اسود کے پاس شبِ قدر پانے اور اس میں عبادت کرنے سے کہیں زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔“
اس روایت کی سند میں عباس ترقفی نے المقرئ سے نقل کرتے ہوئے یونس بن خباب کے بجائے مجاہد کا ذکر کر کے اختلاف کیا ہے، نیز اسے امام ابنِ حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔