المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الجهاد باب: جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ : اللَّهُمَّ آتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ . فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ؟ قَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذًا يُعْقَرُ جَوَادُكَ وَتُسْتَشْهَدُ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانَ وَأَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ أَحَدُهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ ، وَالْآخَرُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَمْ يَرْوِ مُسْلِمٌ أَوْ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا هَذَا ، وَلَا يُرْوَى عَنْ سَعْدٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نماز کے لیے حاضر ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے، جب وہ صف تک پہنچا تو اس نے یہ التجا کی: «اللَّهُمَّ آتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» "اے اللہ! مجھے وہ بہترین اجر و فضل عطا فرما جو تو اپنے صالح بندوں کو عطا فرماتا ہے"۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز مکمل کر چکے تو دریافت فرمایا: ”ابھی ابھی کس نے کلام کیا تھا؟“ اس شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسی صورت میں تو تمہارا گھوڑا مارا جائے گا اور تمہیں شہادت کا رتبہ ملے گا“۔
اسے امام بزار نے احمد بن ابان اور احمد بن عبدہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، ان میں سے ایک نے راوی کا نام محمد بن مسلم بن عائذ اور دوسرے نے مسلم بن عائذ ذکر کیا ہے؛ نیز امام بزار فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلم نے عامر بن سعد سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت بیان نہیں کی، اور یہ حدیث سیدنا سعد سے صرف اسی ایک سند سے منقول ہے۔