المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ دَفْنِ الشَّهِيدِ حَيْثُ يُقْتَلُ باب: شہید کو جائے شہادت پر دفن کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1931
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعِيَّةَ السُّوَائِيِّ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَا عِنْدَ بَابِ بَنِي سَالِمٍ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَنَا حَيْثُ قُتِلَا ، فَاحْتُمِلَا مِنْ حَيْثُ أُصِيبَا ، فَوَافَقَهُمْ ذَلِكَ مَقْبَرَةً عِنْدَ بَنِي هِلَالٍ ، فَدُفِنَا هُنَالِكَ .ترجمہ
عبد اللہ بن معیہ السوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے دو اصحاب بنو سالم کے دروازے کے قریب شہید کر دیے گئے، جب نبی کریم ﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ ”ان دونوں کو اسی جگہ دفن کر دیا جائے جہاں یہ شہید ہوئے ہیں“، چنانچہ انہیں اس جگہ سے اٹھایا گیا جہاں انہیں زخم لگے تھے اور وہ بنو ہلال کے پاس ایک قبرستان کے قریب پہنچے تو انہیں وہیں دفن کر دیا گیا۔